دورہ قرآن 2025: ابتدائی آیات اور سورتیں (سیرت کے تناظر میں) – قسط نمبر 1

دورہ قرآن 2025 کی پہلی قسط میں جانیں ابتدائی آیات، پہلی وحی، اور مکی سورتوں کا پس منظر۔ سیرت النبی ﷺ کے تناظر میں قرآن فہمی کا بہترین موقع۔

Views: 17

مقدمہ آج سے ہم “دورہ قرآن 2025” کے سلسلے کا آغاز کر رہے ہیں جس کا بنیادی مقصد قرآن مجید کا مطالعہ سیرت النبی ﷺ کے تناظر میں کرنا ہے۔ قرآن پاک ایک وسیع موضوع ہے جسے مختصر وقت میں مکمل تفصیل کے ساتھ بیان کرنا ممکن نہیں، اس لیے ہم اسے دو بنیادی حصوں یعنی مکی اور مدنی سورتوں میں تقسیم کر کے سمجھیں گے۔

مکی اور مدنی سورتوں کا فرق جب حضور اکرم ﷺ نے 40 سال کی عمر میں اعلان نبوت فرمایا، تو وہاں سے لے کر ہجرت مدینہ تک کے 13 سالہ دور میں نازل ہونے والی سورتوں کو “مکی سورتیں” کہا جاتا ہے۔ جبکہ ہجرت کے بعد مدینہ میں گزرنے والے 10 سالہ دور کی سورتیں “مدنی” کہلاتی ہیں۔ اس سیریز کا آغاز ہم مکی دور کی ابتدائی وحی سے کر رہے ہیں۔

پہلی وحی: سورۃ العلق (وجودِ باری تعالیٰ کا تعارف) مفسرین کا اتفاق ہے کہ غار حرا میں سب سے پہلے سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیات نازل ہوئیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے سب سے بنیادی سوال کا جواب دیا کہ “مجھے کس نے پیدا کیا؟”۔ ارشاد ہوا:

اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا)۔ اس وحی نے انسان کو بتایا کہ وہ بے مقصد نہیں بلکہ اسے ایک خالق نے تخلیق کیا ہے اور علم (قلم) کے ذریعے اسے شعور بخشا ہے۔

دوسری وحی: سورۃ القلم (اعتراضات کا جواب) جب آپ ﷺ نے توحید کی دعوت دی تو مکہ کے کفار نے مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ کسی نے شاعر کہا، کسی نے مجنوں اور کسی نے جادوگر۔ اس کے جواب میں دوسری وحی یعنی سورۃ القلم کی ابتدائی 7 آیات نازل ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا کہ “آپ اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہیں” اور آپ کے اخلاق کی گواہی ان الفاظ میں دی:

وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ ساتھ ہی آپ ﷺ کو صبر کی تلقین کی گئی کہ ان لوگوں کی باتوں پر دھیان نہ دیں اور خوبصورتی سے کنارہ کشی اختیار کریں۔

تیسری اور چوتھی وحی: تیاری اور تبلیغ کا حکم تیسری وحی میں سورۃ المزمل کی ابتدائی 10 آیات نازل ہوئیں جن میں رات کی عبادت (تہجد) اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کا حکم دیا گیا تاکہ آپ ﷺ اس بھاری ذمہ داری (تبلیغ) کے لیے روحانی طور پر تیار ہو سکیں۔ اس کے فوراً بعد چوتھی وحی سورۃ المدثر نازل ہوئی جس میں اعلانیہ حکم آیا:

قُمْ فَأَنذِرْ (اٹھو اور لوگوں کو ڈراؤ/خبردار کرو)۔ یہاں سے باقاعدہ عوامی تبلیغ کا آغاز ہوا۔

پانچ نبوی کا دور اور آزمائشیں (سورۃ العنکبوت) نبوت کے پانچویں سال مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ اس دور میں سورۃ العنکبوت، سورۃ الروم اور سورۃ مریم نازل ہوئیں۔ سورۃ العنکبوت میں مسلمانوں کی تربیت کی گئی کہ ایمان لانا صرف زبان سے اقرار کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ آزمائش کے ذریعے ایمان والوں کو پرکھتا ہے۔

“کیا لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ صرف یہ کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور انہیں آزمایا نہ جائے گا؟”

نتیجہ دورہ قرآن 2025 کی اس پہلی نشست سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ قرآن مجید کو سیرت کے حالات کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے اس کا فہم دوچند ہو جاتا ہے۔ ابتدائی سورتیں ہمیں توحید، صبر، اور تبلیغ کی ذمہ داری کا درس دیتی ہیں۔

Leave a Reply