غم زمانے کے جب ستاتے ہیں

Views: 108

غم زمانے کے جب ستاتے ہیں
سر کو سجدے میں ہم جھکاتے ہیں

جن کو رکھنا ہو اپنی قربت میں
غم انہیں دے کر آزماتے ہیں

جو شناسا ہوں غم کی لذت سے
وہ غموں پر بھی مسکراتے ہیں

اس کے بندوں کی یہ نشانی ہے
اک علامت سے جانے جاتے ہیں
حق سناتے ہیں نوکِ نیزہ پر
کب ملامت سے خوف کھاتے ہیں

دل محلے میں روشنی کر کے
محفلیں ذکر کی سجاتے ہیں

آیتوں کو ملا کے ترتیلاً
ہم محبت میں گنگناتے ہیں

غم کے اشکوں سے ہم وضو کر کے
آیتِ صبر گنگناتے ہیں

ہر مصیبت سے دل لگی کر کے
اُس کی مرضی پہ مسکراتے ہیں

جنید حسن

Leave a Reply