Views: 106
تم ملے ہو بھری جوانی میں
رنگ بکھرے مری کہانی میں
دل کو خالی کیا ہے دنیا سے
تجھ کو رکھا ہے زندگانی میں
رنگ سارے اتر گئے مجھ میں
تیرے رنگوں کی ترجمانی میں
تذکرے عرش پر ہیں ان کے جو
توبہ کرتے ہیں نوجوانی میں
اُن کی سیرت ہی دیکھ لی ہوتی
جن کو لائے ہو حکمرانی میں
سر جھکاتے ہیں جو غلامی میں
ان کو لاتے ہیں حکمرانی میں
شاہ پرستوں میں وہ نمایاں ہیں
جن کی شہرت ہے بد زبانی میں
مثلِ موسٰی حسن بھی ہے طالب
کب رکے گا وہ لَنْ تَرَانِیْ میں
(جنید حسن)