Views: 101
عشق میں جب مرے کمال آیا
فاصلے بڑھ گئے زوال آیا
پوچھتے ہیں سبب اداسی کا
تب ترے ہجر کا خیال آیا
مسکرانے لگا ہی تھا لیکن
پھر تری یاد سے ملال آیا
مٹ گئیں سب اداسیاں دل کی
سامنے جب رخِ جمال آیا
شکریہ بے وفا ترے غم سے
شاعری میں ہمیں کمال آیا
پھر دلاسَا حسَن دیا دل کو
جب تری دید کا سوال آیا
(جنید حسَن)